جی ہاں، قطر میں کسی کی تصاویر یا ویڈیوز اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کرنا سائبر کرائم سے بچاؤ کے قانون (قانون نمبر 14 بابت 2014) کے تحت فوجداری جرم ہے۔ آرٹیکل 6 دوسروں کی ذاتی نجی زندگی میں مداخلت کے لیے انفارمیشن نیٹ ورک یا انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے، اور رضامندی کے بغیر نجی تصاویر، ویڈیوز یا ذاتی معلومات شیئر کرنا اس ممانعت کے دائرے میں آتا ہے۔ اس جرم کی سزا تین سال تک قید اور پانچ لاکھ قطری ریال تک جرمانہ ہے۔
آرٹیکل 8 تحفظ کی ایک اور پرت فراہم کرتا ہے، جو دوسروں کی توہین یا شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کو جرم قرار دیتا ہے — جس میں کسی کے بارے میں شرمناک یا قریبی نوعیت کا مواد شیئر کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ آرٹیکل 5 کسی کو دھمکانے یا بلیک میل کرنے کے لیے انفارمیشن نیٹ ورکس کے استعمال کو بھی زیر بحث لاتا ہے، جو اکثر نجی مواد کی غیر رضامندانہ اشاعت کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس قسم کے جرم کو، جسے بعض دیگر ممالک میں 'ری وینج پورن' کہا جاتا ہے، قطری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
غیر ملکی مقیم افراد کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو قطر میں دوستوں، ساتھی کارکنوں یا جاننے والوں کی تصاویر یا ویڈیوز ان کی واضح اجازت کے بغیر کبھی شیئر نہیں کرنی چاہیے، حتیٰ کہ نجی گروپ چیٹس میں بھی۔ اس میں دوسروں سے موصول شدہ تصاویر آگے بھیجنا بھی شامل ہے۔ اگر آپ غیر رضامندانہ تصویر یا ویڈیو شیئرنگ کا شکار ہوں تو آپ وزارت داخلہ کی ویب سائٹ یا ایپ کے ذریعے قطر کے سائبر کرائم کمباٹنگ سینٹر (C3) میں براہ راست شکایت درج کروا سکتے ہیں، اور مقامی وکیل سے مشورہ بھی لینا چاہیے۔
یہ عام قانونی معلومات ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورتحال کے لیے قطر-لائسنس یافتہ وکیل سے مشورہ کریں۔