جی ہاں۔ قطر کے گھریلو ملازمین کے قانون (قانون نمبر 15 بابت 2017) کا آرٹیکل 15 یہ قائم کرتا ہے کہ جس گھریلو ملازم نے کم از کم ایک سال کی سروس مکمل کر لی ہو، وہ ملازمت ختم ہونے پر اختتامِ سروس بونس کا حقدار ہے۔ یہ حق اس تاریخ سے نافذ ہے جب سے یہ قانون مؤثر ہوا، چاہے معاہدہ باہمی رضامندی، مدت کی تکمیل یا برطرفی کسی بھی صورت میں ختم ہو۔
اختتامِ سروس بونس آجر کی طرف سے دیا جانے والا مالی حق ہے، اور اسے ادا نہ کرنا قانونی خلاف ورزی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آرٹیکل 17 کے تحت، اگر کوئی گھریلو ملازم آجر کی قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے کی وجہ سے — جیسے کہ اجرت کی ادائیگی نہ کرنا یا مناسب رہائش فراہم نہ کرنا — قبل از وقت استعفیٰ دے، تو وہ پھر بھی اس بونس کے مکمل حق سے محروم نہیں ہوتا۔
اگر آپ بطور آجر عملے کی تبدیلی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تو ملازمت کے آغاز سے ہی اس گریجویٹی کے لیے بجٹ مختص کرنا بہت ضروری ہے۔ تمام ملازمت کے ریکارڈ، بشمول آغازِ ملازمت کی تاریخیں اور تنخواہ کی تاریخ، محفوظ رکھیں، کیونکہ یہی معلومات بونس کا حساب لگانے کی بنیاد ہوں گی۔ اختتامِ سروس ادائیگیوں سے متعلق تنازعات متعلقہ قطری محکمہ محنت کے حکام کو رپورٹ کیے جا سکتے ہیں۔
یہ عام قانونی معلومات ہے، قانونی مشورہ نہیں۔ اپنی صورتحال کے لیے قطر-لائسنس یافتہ وکیل سے مشورہ کریں۔